اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کرم ایجنسی کا علاقہ گاودر قدرتی حسن سے تو مالا مال لیکن بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ لوگ پتھر کے دور میں جیسی زندگی جینے پر مجبور ہیں۔ کرم ایجنسی کا علاقہ گاؤدر شفاف پانی کے چشموں، سرسبز و شاداب کھیت اور کھلیان سمیت قدرتی حسن سے مالامال ہے۔ گاؤدرمیں خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن اس کے مکینوں کو بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ دنیا چاند پر پہنچ گئی۔ لیکن یہاں کے لوگ پتھر کے دور جیسی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ لوگ بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ملک محب حسین نے بتایا کہ جیسے یہ سب کو معلوم ہے کہ وہ صدہ اور پاراچنار سے دور افتادہ پہاڑی علاقے میں مقیم ہیں اور انہیں پانی، صحت کے مراکز، سڑکوں اور سکولوں سمیت مختلف قسم کی بیشمار مشکلات کا سامنا ہے اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دھماکے میں ایک گاڑی میں کتنے افراد شہید اور زخمی ہوگئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انکے پاس گاڑیوں کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے انہیں 15 افراد کی گنجائش والی گاڑی میں 30 افراد بیٹھ جاتے ہیں، اس صورت میں اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو انکا بہت زیادہ جانی نقصان ہوجاتاہے۔ اسی طرح اگر کوئی ایمرجنسی رونما ہوجائے تو انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور ہسپتال لے جانے سے پہلے وہ زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں کیونکہ روڈ تک نکلنے کیلئے بھی انہیں ڈیڑھ گھنٹہ پیدل جانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکے علاقے میں خستہ حال سکولوں میں کلاس چہارم سے اپ گریٹ نہیں کیا گیا ہے، انکے ہاں ابھی تک ایک بندہ بھی میٹرک تک نہیں پڑھ سکا ہے مگر حکومت نے ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرم ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ نے گاؤں کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا اور علاقے کی پسماندگی ختم کرنے کے لئے خصوصی پیکج کا اعلان کیا۔ ایڈیشل پولیٹیکل ایجنٹ نصراللہ خان متاثرہ علاقے کے دورے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے یہ کہا کہ اس نے علاقے کا جائزہ لیا، جس کو دیکھ کر انہیں بہت افسوس ہوا کہ اس جدید دور میں آج تک کسی نے بھی اس علاقے پر توجہ نہیں دی۔ انہوں نے علاقے کے مکینوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا اور اس کا ہر مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گا۔ اور اس علاقے کو سکول اور روڈ ہنگامی بنیادوں پر آئندہ اے ڈی پی میں ڈال دئیے جائیں گے۔ انہوں نے بجلی کے مسئلے کی حل کرانے کی بھی یقین دہائی کرائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲